ماہرینِ طب نے نوجوانوں میں دل کے دورہ پڑنے کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک بڑی اور حیران کن وجہ تلاش کر لی ہے جس کا تعلق براہِ راست طرزِ زندگی اور نیند سے ہے۔
فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مکمل نیند نہ لینا اور وقت پر نہ سونے کی عادت دل کے امراض میں اضافے کا بنیادی سبب بن رہی ہے۔
اس تحقیق کے دوران محققین نے 10 سال سے زائد عرصے تک ہزاروں افراد کا مشاہدہ کیا جس کے نتائج بتاتے ہیں کہ جو لوگ روزانہ 8 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں یا رات دیر تک جاگنے کے عادی ہیں، ان میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں دگنا ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے جدید زندگی میں صحت مند عادات سے دوری بڑھ رہی ہے، ویسے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور امراضِ قلب جیسی بیماریاں اب صرف بڑھاپے تک محدود نہیں رہیں بلکہ نوجوانوں کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔
تحقیق کے مطابق تاخیر سے سونے اور نیند کی کمی کی وجہ سے انسانی جسم کے مدافعتی اور قلبی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بالآخر جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے ماہرینِ قلب نے مشورہ دیا ہے کہ نوجوان اپنی سونے اور جاگنے کی روٹین کو باقاعدہ بنائیں۔ پرسکون اور بہتر نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر اسکرینز کا استعمال ترک کر دیا جائے۔
اس کے علاوہ شام چار بجے کے بعد چائے اور کافی سے پرہیز سمیت رات کے کھانے میں مرچ مصالحے اور تلی ہوئی اشیاء کا استعمال کم کر کے دل کے دورے کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔





