وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہاہے کہ قطر سے پاکستان کو ایل این جی کی سپلائی بحال ہوگئی ہے۔ قطر سے ایل این جی کا پہلا کارگو کل پورٹ قاسم کراچی پر لنگر انداز ہوگا جس سے کراچی سمیت ملک بھر کی گیس ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ خطے میں جنگ ابھی مستقل ختم نہیں ہوئی، جس کے اثرات عالمی منڈی پر موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80، 80 روپے تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا، یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور دیگر اراکین نے پٹرولیم قیمتوں میں اچانک اضافے پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ اراکین نے پوچھا کہ پہلے سے موجود اسٹاک کے باوجود قیمتیں 55 روپے تک کیوں بڑھائی گئیں اور کیا اس کا فائدہ عوام کے بجائے کمپنیوں کو پہنچایا گیا؟
وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا اسٹاک اور لیکویڈیٹی برقرار رکھنے کے لیے قیمتیں بڑھانا ناگزیر تھا۔
وزار ت پیٹرولیم حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ملکی ذخائر میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس وقت پیٹرول کا 6 لاکھ 62 ہزار ٹن جبکہ ڈیزل کا تقریباً 6 لاکھ ٹن اسٹاک موجود ہے۔
حکام نے کمیٹی کو مزید آگاہ کیا کہ حکومت اب تیار ڈیزل اور پیڑول کے بجائے خام تیل کی خریداری پر توجہ دے رہی ہے تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ متحدہ عرب امارات میں یہ اضافہ 72 فیصد اور نیوزی لینڈ میں 88 فیصد تک رہا۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ دیا کہ آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق تمام اہم فیصلے کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔





