پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسنگ ڈے منایا جارہا ہے

اسلام آباد : دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج نرسوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نرسنگ کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور نرسوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

یہ دن ہر سال 12 مئی کو انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کے زیرِ اہتمام منایا جاتا ہے، جو جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹنگیل کا یومِ پیدائش بھی ہے۔

نرسنگ کے شعبے کی بنیاد پاکستان میں 1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی، اور وقت کے ساتھ یہ شعبہ صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس وقت نرسنگ کے شعبے میں شدید کمی کا سامنا ہے، اور مختلف رپورٹس کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 15 لاکھ سے زائد نرسوں کی کمی موجود ہے۔

نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، کام کے شدید دباؤ اور محدود سہولیات کے باوجود مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتی ہیں۔ کووِڈ-19 کی وبا کے دوران نرسوں نے جس جرات اور لگن کے ساتھ خدمات انجام دیں، اسے بھی دنیا بھر میں سراہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : اب بیرون ملک بیٹھ کر بھی کیس لڑنا ممکن، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

اس وقت پاکستان میں نرسنگ کے 162 تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی ضروریات کے مقابلے میں یہ تعداد ناکافی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث نرسوں کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ اوسطاً 100 مریضوں کے لیے صرف ایک نرس دستیاب ہے، جو صحت کے نظام پر ایک بڑا دباؤ ظاہر کرتا ہے۔

Scroll to Top