خام تیل کی عالمی سپلائی میں سنگین بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔
آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو عالمی مارکیٹ کو ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 70 بحری جہاز گزرتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 3 سے 5 جہاز یومیہ رہ گئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔
امین ناصر نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ اگر آبنائے ہرمز آج کھول بھی دی جائے تو بھی عالمی تیل مارکیٹ کو دوبارہ توازن میں آنے کے لیے کئی مہینے درکار ہوں گے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر اس آبی گزرگاہ کی بندش میں چند ہفتے کی مزید تاخیر ہوئی تو عالمی توانائی مارکیٹ کی مکمل بحالی کا عمل 2027 تک بھی جا سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت پر طویل المدتی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔





