انقرہ: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات، مشترکہ تہذیبی ورثے اور عوامی روابط کو اجاگر کرنے کے لیے انقرہ میں ایک اہم ثقافتی و علمی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور مستقبل کے تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ تقریب سفارتخانہ پاکستان اور انقرہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس کا عنوان پاکستان ترکیہ تعلقات: تحریکِ خلافت سے عصرِ حاضر تک ثقافتی روابط تھا۔
یہ بھی پڑھیں : آسٹریلیا میں روزگار اور مستقل رہائش کا موقع، پاکستانی ہنرمندوں کیلئے اہم اعلان
تقریب میں ترک پارلیمنٹ کے اراکین، ماہرینِ تعلیم، سفارتی شخصیات، طلبہ، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پاکستان کے سفیر نے اپنے خطاب میں اردو اور ترکی زبانوں کے درمیان لسانی مماثلتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کا لفظ “اردو” ترکی زبان کے لفظ “Ordu” سے ماخوذ ہے، جبکہ دونوں زبانوں میں ہزاروں مشترک الفاظ موجود ہیں جو تاریخی روابط کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ترکیہ میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی و ثقافتی روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انقرہ یونیورسٹی کی شعبہ اردو کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر آسمان بیلن نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بے مثال ہیں اور تعلیمی شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ کے درمیان تحقیقی تعاون اور تبادلوں کے فروغ کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
فیکلٹی آف لیٹرز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عرفان البائراک نے کہا کہ علمی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے، اور جامعات اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تقریب میں ترک پارلیمنٹ کے رکن علی شاہین نے پاکستان میں اپنے طالب علمی کے دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے ہمیشہ ترکیہ کے ساتھ محبت اور خلوص کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کو ایک “مقدس امانت” قرار دیا۔

اسی طرح ترک رکنِ پارلیمنٹ برہان قایا ترک نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، اور یہی اعتماد اس رشتے کی مضبوط بنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان
تقریب میں پاکستانی طلبہ نے ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے جن میں اردو شاعری، قوالی، روایتی رقص اور پاکستانی ثقافت کی جھلکیاں شامل تھیں۔ حاضرین نے ان پروگراموں کو بے حد سراہتے ہوئے اسے پاکستان کی ثقافتی شناخت کا خوبصورت اظہار قرار دیا۔
اختتامی سیشن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ اپنی تاریخی دوستی کو مزید مضبوط بنانے، ثقافتی و تعلیمی تعاون کو فروغ دینے اور عوامی روابط کو نئی جہت دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ دلوں میں بسی ایک لازوال دوستی ہے جو آنے والی نسلوں تک اتحاد اور اخوت کی مثال بنی رہے گی۔





