اسلامیہ کالج پشاور میں خاتون لیکچرار سے بدتمیزی اور ہراسانی، انکوائری کمیٹی تشکیل

سلمان یوسفزئی

اسلامیہ کالج پشاور میں خاتون لیکچرار کو مبینہ طور پر ہراسانی اور طلبہ کے ناروا رویے کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے وائس چانسلر کو تحریری شکایت جمع کرا دی ہے۔

شکایتی مراسلے کے مطابق شعبہ باٹنی میں دوسرے سمسٹر کے ٹیسٹ کے دوران متعدد طلبہ نے امتحان دینے سے انکار کر دیا۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشتعل طلبہ نے دیگر سٹوڈنٹس کو بھی ٹیسٹ نہ دینے پر اکسایا اور دھمکیاں دیں۔

مراسلے کے مطابق طلبہ نے سوالیہ پرچے پھاڑ کر خاتون لیکچرار کے چہرے پر پھینکے جبکہ بعض طلبہ نے مبینہ طور پر خاتون استاد اور طالبات کو کلاس روم میں بند کر دیا۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ بعد ازاں طلبہ مزید لڑکوں کو ساتھ لے کر واپس آئے اور لیکچرار کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ خاتون استاد نے الزام لگایا کہ طلبہ نے ان کا گھیراؤ کیا اور انہیں کلاس روم میں محصور رکھا۔خاتون لیکچرار نے وائس چانسلر سے واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر سلجوق رحمان نے کہا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

وائس چانسلر کے مطابق رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق اور کوتاہیوں کی بنیاد پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامیہ کالج پشاور میں اساتذہ کے تحفظ اور عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ ادارے میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

Scroll to Top