دوران تحقیقات انمول عرف پنکی کے سنسنی خیز انکشافات

حساس اداروں کی تحقیقات کے دوران گرفتار کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے منشیات فروشی کے نیٹ ورک میں ملوث پولیس، اے این ایف حکام اور معروف شخصیات کے ناموں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوزکے مطابق ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اے این ایف کا ایک انسپکٹر اس کے بھائی ناصر کو بار بار گرفتار کر کے رشوت لے کر چھوڑ دیتا تھا، جس کے لیے اس نے اے این ایف اہلکاروں کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 5 لاکھ روپے رشوت دی جبکہ درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن پولیس اسٹیشنز کے اہلکاروں کو بھی لاکھوں روپے ادا کیے گئے۔

ملزمہ نے مزید بتایا کہ 2024 میں ایک پولیس اہلکار کامران نے اس کے رائیڈرز کو اغوا کر کے 2 کروڑ 5 لاکھ روپے بٹورے، جس سے تنگ آکر اس نے مذکورہ اہلکار کو راستے سے ہٹانے کے لیے اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا تھا۔ منشیات چھپانے کے حوالے سے ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اس کا سابق شوہر رانا ناصر وکلاء کے دفاتر اور چیمبرز کا استعمال کرتا تھا تاکہ پولیس چھاپوں سے بچا جا سکے، جبکہ رانا ناصر کے بھائی رانا منصور اور رانا شہزور وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی میں منشیات کے بڑے ڈیلر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق انمول عرف پنکی نے دعویٰ کیا کہ اس کے 800 کے قریب صارفین میں سے 150 مستقل گاہک ہیںجن میں اداکار منیب بٹ اور سارہ نامی ماڈل بھی شامل رہی ہیں۔

انمول پنکی نے سیاسی حلقوں میں رسائی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی صادق افتخار اور ان کی اہلیہ کا نام بھی لیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ سیاستدان پر اس کا 5 لاکھ روپے قرض بھی واجب الادا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق ان انکشافات کی روشنی میں سیاسی اور شوبز حلقوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top