سینئر صحافی حسن ایوب نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے حالیہ انٹرویو پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ان کی کارکردگی کو “نیگیٹو” قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے دوسروں پر الزام تراشی وزیراعلیٰ کا وطیرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب سیکیورٹی فورسز پر مساجد میں کتے باندھنے جیسے جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور دوسری جانب قبائلی عمائدین کی تذلیل کا بیانیہ بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے “کالے چینلز” کے مبہم ذکر پر تنقید کرتے ہوئے حسن ایوب نے انہیں بزدلی کا طعنہ دیا اور چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو نام لیں کہ وہ کون سے چینلز یا فارم ہاؤسز ہیں جہاں صحافیوں کو پیسے دیے گئے۔
انہوں نےکہاکہ جھوٹ بول بول کر وزیراعلیٰ کی اپنی زبان سیاہ ہو چکی ہے اور شاید اسی لیے انہیں آئینے میں اپنا عکس بھی کالا نظر آ رہا ہے، کیونکہ جو صحافی سچ دکھاتا ہے اسے وہ کالا قرار دے دیتے ہیں۔
حسن ایوب نے صوبائی حکومت کے 10 سے 15 کروڑ روپے کے خفیہ فنڈز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ بھاری رقم کس کا گھر بھرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور اس کا آڈٹ کیوں نہیں کیا جا رہا؟
انہوں نے وزیراعلیٰ کی مہنگی کوریوگرافی اور رات گئے بنائی جانے والی ویڈیوز پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات مانگتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اپنی پروجیکشن کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ کو اپنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور الزامات کے ثبوت سامنے لانے چاہئیں۔





