ماحولیاتی تحفظ کے وکیل طارق افغان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا کا دیر بالا میں جنگلات کی تباہی پر جاری کردہ وضاحتی بیان دراصل حقائق چھپانے اور عوام کو مطمئن کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے کہاکہ الفاظ کے ہیر پھیر سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔سوال یہ ہے کہ جو جنگلات صدیوں سے مقامی آبادی، شدید سرد موسم اور گھریلو ضروریات کے باوجود محفوظ رہے، وہ آخر پچھلے سات سال میں اچانک کیسے ختم ہوگئے؟ کیا 2019 سے پہلے دیر بالا خصوصاً شیرینگل جٹکول میں سردیاں نہیں پڑتی تھیں؟ کیا اس سے پہلے لوگ لکڑی بطور ایندھن استعمال نہیں کرتے تھے؟ اگر نہیں، تو پھر ایسا کیا بدلا کہ 1300 کنال پر محیط جنگلات یکے بعد دیگرے ختم ہوگئے اور محکمہ جنگلات خاموش تماشائی بنا رہا؟
انہوں نے مذید کہاکہ یہ مؤقف کہ چونکہ یہ جنگلات نجی یا اجتماعی ملکیت تھے، اس لیے محکمہ کی ذمہ داری نہیں بنتی، نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ ماحولیات کا تحفظ صرف سرکاری جنگلات تک محدود نہیں ہوتا۔ اگر کسی علاقے میں ہزاروں درخت کاٹے جارہے ہوں، ماحولیاتی توازن برباد ہورہا ہو، آبی وسائل متاثر ہورہے ہوں اور موسمیاتی خطرات بڑھ رہے ہوں تو محکمہ موسمیاتی تبدیلی کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
طارق افغان نے کہاکہ ہم نے پہلے ہی KP Woodlot Policy 2017 کو جنگلات دشمن پالیسی قرار دیا تھا۔ آج زمینی حقائق نے ثابت کردیا کہ تحریک انصاف حکومت کی یہ پالیسی ماحولیات، جنگلات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خلاف تھی۔ افسوس کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات بھی اس تباہی میں برابر کا شریک نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ دیر بالا کی سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے اور مقامی قیادت اس بڑے ماحولیاتی سانحے پر مسلسل خاموش رہی۔ ان کی خاموشی نے جنگلات مافیا اور غیر ذمہ دار پالیسیوں کو مزید تقویت دی۔جنگلات صرف درخت نہیں ہوتے، یہ پانی، موسم، زراعت، حیاتیاتی تنوع اور انسانی بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس تباہی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل دیر بالا صرف بنجر پہاڑوں، خشک چشموں اور موسمیاتی آفات کی علامت بن جائے گا۔





