موبائل فونز پر زیادہ ٹیکس، لاکھوں افراد انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم

ایک نئی پالیسی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اسمارٹ فونز اور ٹیلی کام سروسز پر خطے میں سب سے زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ عائد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہیں۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھاری ٹیکس پالیسی ملک کی ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کا ہدف ایک جدید اور جامع ڈیجیٹل معیشت قائم کرنا ہے تاہم اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ سروسز پر بلند ٹیکس اس مقصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک میں موبائل نیٹ ورک کوریج 81 فیصد آبادی تک پہنچ چکی ہے تاہم صرف 29 فیصد افراد باقاعدگی سے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث 52 پوائنٹس کا نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فرق کی بنیادی وجہ ڈیوائسز اور انٹرنیٹ سروسز کی مہنگی قیمت ہے، جس کے باعث عام صارف کی رسائی محدود ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معروف موبائل سم کمپنی کا اہم اعلان

مزید بتایا گیا ہے کہ درآمد شدہ اسمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹیز، ایڈوانس انکم ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور سیلز ٹیکس سمیت متعدد محصولات عائد کیے جاتے ہیں۔

500ڈالر سے زائد قیمت والے فونز پر 25 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے جبکہ پریمیم فونز پر مجموعی ٹیکس بوجھ 50 فیصد سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 700 ڈالر مالیت کا اسمارٹ فون تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے بعد پاکستانی صارفین کو تقریباً 2 لاکھ 94 ہزار 500 روپے میں پڑتا ہے۔

Scroll to Top