خیبر پختونخوا میں گندم و آٹے کے بحران کا خدشہ، صوبائی حکومت نے وفاق کو خط لکھ دیا۔
خیبر پختونخوا میں گندم اور آٹے کے ممکنہ بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کو فوری مداخلت کی درخواست کر دی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث خیبر پختونخوا میں غذائی اجناس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
خط کے مطابق خیبر پختونخوا کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ مقامی پیداوار صرف 16 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس کے باعث صوبہ بڑی حد تک دیگر صوبوں کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔ گندم کی قلت کے نتیجے میں 40 کلو گرام گندم کی قیمت 4700 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب کی جانب سے پابندیوں کے باعث اسٹریٹجک ذخائر متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ملاکنڈ اور درگئی کے لیے بھیجی جانے والی 554.800 میٹرک ٹن گندم کی ترسیل روک دی گئی، جس سے ہزاروں بوریوں کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گندم کی ترسیل میں رکاوٹ آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے، لہٰذا وفاق فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ترسیل بحال کرائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دے رکھی ہے، جبکہ پاسکو سے گندم کی بلا تعطل فراہمی کے لیے بھی وفاق سے اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔





