وزیراعظم نے کے پی کے مسائل پر شہباز اسپیڈ نہیں دکھائی ، فیصل کریم کنڈی

وزیراعظم نے کے پی کے مسائل پر شہباز اسپیڈ نہیں دکھائی ، فیصل کریم کنڈی

خیبرپختونخوا میں گندم اور سی این جی بحران، حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ مطالبہ،وفاق فوری اقدامات کرے۔

خیبرپختونخوا میں گندم کی ترسیل اور سی این جی کی فراہمی کے مسائل پر گورنر، وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم نے صوبے کے معاملات میں مطلوبہ رفتار نہیں دکھائی اور خیبرپختونخوا کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو روٹی مہنگی ملی تو وہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت صوبے کو اس کا حق دیا جائے اور گندم کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک ساتھ بٹھا کر مسئلہ زیر بحث لایا گیا ہے، جبکہ سی این جی سے متعلق آئینی شقیں بھی واضح ہیں۔

گورنر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا گیس، بجلی اور تیل پیدا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود اسے اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کو پانی کا جائز حصہ ملے تو اسے گندم کے لیے کسی دوسرے صوبے پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں سوتیلی ماں جیسا برتاؤ برداشت نہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے لیکن اس کے باوجود اسے بنیادی ضروریات میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت گندم کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت خوراک کی ترسیل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، لیکن اس کے باوجود خیبرپختونخوا کو مسائل درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کو بار بار آگاہ کرنے کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے، جس سے صوبے کے حالات اور امن متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ موقف اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی نمائندگی ہر سطح پر مضبوط ہونی چاہیے۔

انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ وفاقی سطح پر معاملات کو تیزی سے آگے بڑھائیں، جبکہ اپوزیشن اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

Scroll to Top