وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں اور وہاں کرپشن اور بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں شاہانہ اخراجات کیے جا رہے ہیں اور عوام کا پیسہ سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔
صوبائی کابینہ میں حالیہ توسیع پر اعتراض اٹھاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، جبکہ نااہلی کے علاوہ اِن وزراء اور مشیران کے انتخاب کا کوئی اور معیار نظر نہیں آتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کابینہ کی تعداد بڑھانے سے وہ گورننس بہتر ہو جائے گی جو گزشتہ 12 سال سے زائد عرصے میں بہتر نہیں ہو سکی؟
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے معاملات اپنے دورِ حاضر میں تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور صوبے کی صورتحال اتنی بُری کبھی بھی نہیں تھی۔





