اسلام آباد میں داخلے کے مقام پر اس وقت شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کو وفاقی دارالحکومت کے قریب روک دیا گیا۔
اس تعطل کے باعث موٹروے پر اسلام آباد کی طرف آنے والی گاڑیوں کی تقریباً 10 کلومیٹر لمبی لائنیں لگ گئیں اور مسافر جن میں کئی مریض بھی شامل تھے کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے۔
معاملے کی تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی اس بات پر بضد ہیں کہ وہ جی ٹی روڈ کے ذریعے ہی اڈیالہ جائیں گے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا موقف ہے کہ چکری انٹرچینج سے ایک متبادل راستہ موجود ہے جو سیدھا اڈیالہ کی طرف جاتا ہے اور قافلے کو اسی راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔
اس بندش کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات اور طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اگرچہ ٹریفک پولیس گاڑیوں کو متبادل راستوں پر موڑنے کی کوششیں کر رہی ہےتاہم موٹروے کی طرف سے اسلام آباد میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے یہ صورتحال شدید پریشانی اور افراتفری کا سبب بنی ہوئی ہے۔





