خیبرپختونخوا میں جوڈیشل افسران کے تبادلے و تقرریاں

خیبرپختونخوا میں جوڈیشل افسران کے تبادلے و تقرریاں

محمدا عجاز آفریدی
حکومتِ خیبر پختونخوا کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں بڑے پیمانے پر جوڈیشل افسران کے تبادلے اور تعیناتیوں کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے ۔

اعلامیہ کے مطابق صوبے کی مختلف انسدادِ دہشت گردی عدالتوں (اے ٹی سی) میں فرائض سرانجام دینے والے چار اہم ترین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو تبدیل کر کے مزید پوسٹنگ کے لیے پشاور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق پشاور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے والے جوڈیشل افسران میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کوہاٹ کے جج محمد آصف-II، انسدادِ دہشت گردی عدالت مردان کے جج سید عقیل شاہ، انسدادِ دہشت گردی عدالت ڈیرہ اسماعیل خان کے جج سہیل شیراز نور سانی اور انسدادِ دہشت گردی عدالت مٹا بقمام مردان کے جج فضل ستار شامل ہیں ۔ ان چاروں سینیئر ججز کو پشاور ہائی کورٹ میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جہاں بعد میں ان کی نئی تعیناتیوں کا فیصلہ کیا جائے گا ۔

تبادلوں کے اسی سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ میں تعیناتی کے منتظر پانچ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو صوبے کی مختلف انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں خالی ہونے والی اسامیوں پر فوری طور پر نئی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں ۔ نوٹیفکیشن کے تحت پشاور ہائی کورٹ میں تعیناتی کی منتظر مسز راشدہ بانو کو جج انسدادِ دہشت گردی عدالت مردان، عثمان ولی کو جج انسدادِ دہشت گردی عدالت مٹا بقمام مردان اور مسز فریال ضیاء مفتی کو جج انسدادِ دہشت گردی عدالت کوہاٹ مقرر کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ ہی میں پوسٹنگ کے منتظر اعجاز رشید کو جج انسدادِ دہشت گردی عدالت سوات تعینات کیا گیا ہے جبکہ انسدادِ دہشت گردی عدالت سوات کے موجودہ جج شوکت احمد خان کا تبادلہ کر کے انہیں جج انسدادِ دہشت گردی عدالت ڈیرہ اسماعیل خان کی خالی اسامی پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔

نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت بنوں کے جج راحت اللہ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر ترقی ملنے کے بعد بطور جج لیبر کورٹ بنوں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور انہیں محکمہ جاتی قوانین کے مطابق اپنی اس ترقی کو عملی جامہ پہنانے کی باضابطہ اجازت بھی دے دی گئی ہے ۔

Scroll to Top