خیبر پختونخوا میں آزاد صحافت کا گلا گھونٹنے کی آخری کوشش، سہیل آفریدی کا حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم

خیبر پختونخوا میں آزاد صحافت کا گلا گھونٹنے کی آخری کوشش، سہیل آفریدی کا حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم

خیبر پختونخوا میں آزادیِ اظہار اور صحافتی حقوق پر گہرا سایہ منڈلانے لگا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں ایک ایسا دوٹوک اور متنازع فیصلہ کیا گیا ہے جسے صحافتی حلقے آزادیِ صحافت پر شب خون مارنے کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب حکومت پر تنقید، مبینہ کرپشن کی نشاندہی یا کسی بھی قسم کی کردار کشی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس فیصلے کے تحت تمام سرکاری محکموں اور انتظامی افسران کو ہنگامی بنیادوں پر تحریری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ نئے حکم نامے کے مطابق اگر کوئی بھی صحافی، میڈیا ادارہ یا عام شہری کسی سرکاری محکمے یا عہدیدار پر بغیر ٹھوس ثبوت کے کرپشن کا الزام عائد کرے گا، تو متعلقہ محکمہ پابند ہوگا کہ وہ صرف 3 دن کے اندر اس فرد یا ادارے کو قانونی نوٹس جاری کرے۔

وزیراعلیٰ نے افسران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں کارروائی نہ کی گئی تو وہ خود متعلقہ حکام اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔

حکومت کے مطابق جائز تنقید اور سوال اٹھانا ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن جھوٹے پروپیگنڈے اوربے بنیاد الزامات کی آڑ میں حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ 3 دن کی مختصر ڈیڈ لائن اور افسران پر دباؤ ڈالنے کا مقصد دراصل کرپشن کی خبروں کو دبانا اور میڈیا کو ہراساں کرنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرکاری افسران اپنی نااہلی چھپانے کے لیے صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سہارا لیں گے، جس سے صوبے میں انوسٹی گیٹو جرنلزم (تحقیقاتی صحافت) کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔

Scroll to Top