وفاقی آئینی عدالت میں علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے پر بحال کرنے کے لیے ایک اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
یہ درخواست شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد ہونے والے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ رضاکارانہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سزایافتہ اور نااہل فردِ واحد کی ڈکٹیشن اور شدید دباؤ کے تحت لیا گیا، جس کی آئین کی نظر میں کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے جبکہ انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے عمل کو آئین سے متصادم ٹھہرایا جائے۔
درخواست میں سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کے نوٹیفکیشن کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
شیر افضل مروت کی جانب سے دائر اس درخواست میں یہ استدعا بھی شامل ہے کہ غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں اب تک کیے گئے تمام سرکاری فیصلے منسوخ کیے جائیں اور علی امین گنڈاپور کو فوری طور پر اپنے عہدے پر بحال کیا جائے۔





