چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر ایران امریکا تنازع حل کروانے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور ہم دعاگو ہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔
کراچی میں 39 کلومیٹر طویل شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نےکہاکہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ ہوجانا چاہیے اس سے دیگر فوائد کے علاوہ عوام کی معاشی مشکلات میں بھی کمی آجائے گی۔
تقریب سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج جتنی جمہوریت سندھ میں ہے کسی دوسرے صوبے میں نہیں اور جتنی جمہوریت کراچی میں ہے کسی دوسرے شہر میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں اس لیے آئے ہیں تاکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ادھورے خوابوں کو پورا کیا جا سکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو تیسری بار وزیرِاعظم بننے والی تھیں لیکن انہیں شہید کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج انہوں نے اس منصوبے کے پہلے فیز کو مکمل کر کے دکھایا ہے جس کا افتتاح جنوری 2025 میں کیا گیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پورے پاکستان سے لوگ کراچی آنا چاہتے ہیں اور ان کی جماعت سب کو دعوت دیتی ہے کہ وہ شہر میں آ کر کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مفت علاج کی سہولت کراچی کے عوام کے ساتھ ساتھ سندھ اور پورے پاکستان کے لیے ہے اور این آئی سی وی ڈی جیسے اداروں میں 18ویں ترمیم کے بعد نمایاں بہتری آئی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نئے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جن میں کیٹی بندر پورٹ ایک اہم منصوبہ ہے جو ممکنہ طور پر دنیا کے منفرد منصوبوں میں شمار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں انٹرنیشنل فنانشل سینٹر بھی قائم کیا جائے گا۔
خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کا بوجھ عام عوام اٹھا رہے ہیں جو بجلی اور گیس کے بلوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
ان کے مطابق خطے میں امن سے معاشی حالات بہتر ہوں گے جبکہ جنگ کے تسلسل سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈالے گی اور کاروباری طبقے کے ساتھ مل کر بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
اس موقعے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے میں 6 انٹرچینجز، 6 لینز اور 5 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ سیکشن شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کا پہلا 9 کلومیٹر حصہ جنوری 2025 میں جبکہ دوسرا 4 کلومیٹر حصہ گزشتہ سال جون میں افتتاح کیا گیا تھا اور اب باقی حصہ مئی 2026 میں مکمل ہو کر افتتاح کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 4 سے 4.5 سال میں مکمل ہوا تاہم اگر حکومت آبادی کے انخلا سے بچنے کی پالیسی نہ اپناتی تو یہ منصوبہ اس سے پہلے مکمل ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی سے باہر سندھ، پنجاب اور بلوچستان جانے والے مسافروں کے لیے سفر کا وقت تقریباً ایک گھنٹہ کم کر دے گا۔
مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ کراچی میں مجموعی طور پر 1700 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جبکہ گزشتہ 3 ماہ میں 70 ارب روپے سے زائد کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔
ان کے مطابق شاہراہ بھٹو فیز III تقریباً 65 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا جبکہ قیوم آباد سے پورٹ تک کے حصے پر مزید تقریباً 65 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔





