کوئٹہ میں دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ ایک ’’مسنگ پرسن‘‘ نکلا

کوئٹہ میں دہشت گردی کے ایک مبینہ ماسٹر مائنڈ کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

بعض تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص ماضی میں مسنگ پرسن کے طور پر بھی زیرِ بحث رہا جس کے بعد انسانی حقوق کے بیانیے اور سیکیورٹی خدشات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ردعمل میں بعض افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملے پر یکطرفہ بیانیے کے بجائے دہشت گردی سے متاثرہ پاکستانی شہریوں کے حقوق اور جانوں کے تحفظ پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

تبصرہ نگاروں کے مطابق کسی شخص کا مسنگ پرسن قرار پانا خود بخود بے گناہی کی ضمانت نہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: بی ایل اے کے دہشتگردوں نے غریب عوام کا سب کچھ جلا کر راکھ کردیا، بلوچ عوام کا بلوچستان میں گرینڈ آپریشن کا مطالبہ

مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد بے گناہ ہو تو اسے مکمل قانونی تحفظ ملنا چاہیے تاہم اگر کسی کے خلاف دہشت گردی یا شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق اس کا احتساب بھی ضروری ہے۔

Scroll to Top