بلوچستان میں مبینہ دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔
مسلح افراد نے متعدد گاڑیوں اور املاک کو نذرِ آتش کردیا، جس کے نتیجے میں کئی غریب خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ جلائی گئی گاڑیاں اور سامان ان کی آمدن کا واحد ذریعہ تھے۔
علاقہ مکینوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں سے عام بلوچ عوام سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مختلف مقامی حلقوں میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے خلاف غم و غصہ پایا جارہا ہے جبکہ بعض افراد نے تنظیمی قیادت پر بیرونی قوتوں کے مفادات کے لیے کام کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
متاثرہ شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور وسیع آپریشن کیا جائے۔





