اے ٹی ایم پر ایک لمحہ بھی لاپرواہی مہنگی پڑ سکتی ہے، نئی ہدایت جاری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اے ٹی ایم فراڈ کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر تمام کمرشل بینکوں کو نئی اور سخت ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کا مقصد صارفین کے مالی تحفظ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز کے دوران سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور فراڈ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ اے ٹی ایم مراکز پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے اور مشکوک مالی سرگرمیوں کی صورت میں صارفین کو فوری طور پر الرٹس بھیجے جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ بینک عالمی معیار کے مطابق چِپ اور پن پر مبنی کارڈز کے اجرا کو یقینی بنائیں تاکہ غیر مجاز لین دین کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : 177 پاکستانی لیبیا کیسے پہنچے؟ ڈی پورٹیشن پر اہم انکشافات

ہدایات میں یہ بھی شامل ہے کہ بینکنگ نیٹ ورکس کے درمیان محفوظ اور خفیہ رابطے کو مضبوط بنایا جائے اور اے ٹی ایم سسٹمز و بینکنگ سافٹ ویئر کی باقاعدہ اپ ڈیٹس کو یقینی بنایا جائے۔

اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں کو اے ٹی ایم مشینوں میں جدید سیکیورٹی آلات کی تنصیب اور فراڈ کی نشاندہی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی ہدایت کی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق اگر کسی صارف کو اے ٹی ایم فراڈ کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرے۔

اس کے علاوہ شکایت کے حل نہ ہونے کی صورت میں صارفین اسٹیٹ بینک کے آن لائن شکایت پورٹل کے ذریعے بھی اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

Scroll to Top