ٹیکس چھوٹ ختم! ملاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں نیا ٹیکس نظام نافذ کرنے کی تیاری، تفصیلات سامنے آگئیں

ٹیکس چھوٹ ختم! ملاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں نیا ٹیکس نظام نافذ کرنے کی تیاری، تفصیلات سامنے آگئیں

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے آئندہ مالی سال کی مالیاتی حکمت عملی کے تحت ملاکنڈ ڈویژن اور سابق قبائلی اضلاع میں کئی برسوں سے جاری ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ان علاقوں کو مرحلہ وار باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سالانہ 45 ارب روپے سے زائد اضافی آمدن حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ سابق فاٹا اور پاٹا میں تیار ہونے والی اشیاء، درآمدات، بجلی کی فراہمی اور مختلف کاروباری سرگرمیوں پر وفاقی اور صوبائی ٹیکسز کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکتا ہے۔

اسی تناظر میں بعض صنعتی اور تجارتی شعبوں کے ساتھ بجلی کی سپلائی پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے ان علاقوں میں کاروباری طبقے اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد دی گئی ٹیکس رعایتیں عارضی نوعیت کی تھیں، تاہم اب قومی مالیاتی ضروریات، محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اہداف کے تحت نئی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق درآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ رعایتی نظام کے تحت درآمد کنندگان کے لیے قواعد و ضوابط مزید سخت کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پالیسی نافذ ہوئی تو اس کے مقامی صنعت، تجارت اور عوامی زندگی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top