شیطان عید کے دن بھی اپنی روش پرکوئٹہ کی انٹری پر بلیلی چیک پوسٹ ہے جو اسمگلنگ اور دہشت گردی کے روک تھام کے لیے ہے۔ اس چیک پوسٹ پر ایف سی بھی تعینات ہے۔ حالیہ کوئٹہ واقع کے بعد چیکنگ بھی مزید سخت کی گئی ہے۔
تاریک انتشار کا صوبائی رہنما حاجی گل خان اپنے لونڈے لپاڑوں کے ساتھ موٹر سائیکل ریلی نکال رہا تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ روڈ پر چیک پوسٹ سے گزرے اس نے کچے راستے پر بنائی گئی عارضی دیوار کو توڑ کر جانے کی کوشش کی
اس پر ایف سی نے انہیں چیلنج کیا تو ان انتشاریوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ ایف سی نے جوابی کاروائی کی جس پر حسب عادت یہ بھاگنے لگ پڑے۔ اسی بھاگم بھاگ میں عصمت اچکزئی نیچے گرا اور اس کے گھٹنوں پر چوٹ آئی۔
ایف سی نے ان تمام انتشاریوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اب اپنا جرم چھپانے کے لیے جبران شیطان نے ایک دکھ بھری پوسٹ شیطان آفیشل پر چڑھا دی اور وہی پرانا مظلومیت کارڈ کھیلنے کی کوشش کی۔
اس واقع پر اس نے خود بیان دیتے ہوئے اپنے کیے کا اطراف کیا اور ندامت ظاہر کی جس پر اسے چھوڑ دیا گیا
چیک پوسٹ کا مطلب ہوتا ہے تمیز سے آؤ اپنا تعارف کراؤ اور جاؤ۔ جب چور دروازے استعمال کرنے کی کوشش کرو گے تو انجام بھی چوروں والا ہو گا





