غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا فیصلہ، واپس جانے والے مہاجرین کے لیے اسلحہ ساتھ لے جانے پر پابندی
ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہتر بنانے، دہشت گردی کے خاتمے اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے حوالے سے حکومت پاکستان اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے، ان کے نام پر موجود بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی اور ضبطی کے اقدامات سخت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بے نامی جائیدادوں کے خلاف قائم ٹاسک فورس کی کارکردگی اب تک تسلی بخش نہیں رہی، جس پر اس کے عملدرآمد کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو سہولت فراہم کرنے والے، ان کی مدد کرنے والے یا اپنی جائیدادیں کرائے پر دینے والے مقامی افراد کے خلاف سخت قانونی اور تعزیری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید یہ کہ بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی اور معاونت کرنے والے شہریوں کے لیے ایک خصوصی انعامی میکانزم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ وزارت داخلہ، نادرا اور ضلعی کمیٹیاں افغان شہریوں کو جاری کیے گئے تمام مشتبہ یا جعلی شناختی کارڈز کی فوری جانچ پڑتال کر کے انہیں بلاک اور منسوخ کریں۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ملک بھر کے بڑے شہروں، شاہراہوں اور موٹر ویز پر قائم تمام جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر فعال اور آپریشنل رکھا جائے گا۔
خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہری پور سمیت صوبے بھر میں موجود تمام افغان کیمپس کو ترجیحی بنیادوں پر خالی کروایا جائے، جبکہ واپس جانے والے مہاجرین کو اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔
اجلاس میں ملک میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً فتنہ الخوارج اور دیگر گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
مزید برآں صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اشتہاری دہشت گردوں اور ان کے سروں کی قیمت سے متعلق کیسز پر فوری فیڈبیک وفاقی وزارت داخلہ اور نیکٹا کو فراہم کریں۔





