خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال کے تناظر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ناراض اراکین اسمبلی کو منانے اور اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز اپنے قریبی ساتھی ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کی رہائش گاہ جا کر انہیں منانے کی کوشش کی، جبکہ متعدد ناراض اراکین اسمبلی سے براہِ راست فون رابطے کیے جا رہے ہیں جو تاحال جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے کئی ایم پی ایز کو فون کر کے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اور انہیں آج ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کی درخواست بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی اور علی امین آمنے سامنے وٹس ایپ گروپ میں پیغامات لیک
تاہم بعض شدید ناراض اراکین نے شہر یا صوبے سے باہر ہونے کا بہانہ بنا کر اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ اس صورتحال پر وزیراعلیٰ نے اجلاس میں عدم شرکت پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر کے ایک شخص نے پارٹی کے باہر کے شخص سے وعدے کیے ہیں، اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 27 ایم پی ایز ساتھ ہیں اور عمران خان کی حکومت گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی کا باپ بھی عمران خان کی حکومت نہیں گرا سکتا۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا آج ہونے والا پارلیمانی پارٹی اجلاس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل اور سیاسی پوزیشن کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔





