چارسدہ: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا میں تنظیمی ڈسپلن کی خلاف ورزی اور پارٹی کے خلاف مبینہ مہم چلانے کے الزام پر ایک کارکن کی بنیادی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔
یہ اعلان اے این پی خیبرپختونخوا کے چئیرمین الیکشن کمیشن اور صدر اے این پی چارسدہ شکیل بشیر خان عمرزئی کی جانب سے کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پارٹی قیادت کے عقائد سے متعلق منظم اور مبینہ طور پر منفی پروپیگنڈہ مہم چلانے، پارٹی ورکرز کے درمیان انتشار اور بداعتمادی پیدا کرنے، اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز رویہ اختیار کرنے پر صوبائی قیادت سے مشاورت کے بعد سید معصوم شاہ باچہ کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اس سے قبل سوشل میڈیا پر ذلان مومند نامی شخص کے حوالے سے عقائد سے متعلق معلومات سامنے آنے پر اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے فوری طور پر متعلقہ شخص کو اپنی تشکیل کردہ ڈیجیٹل ٹیم سے الگ کر دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے اس معاملے کی وضاحت اور تحقیقات کے بعد اپنا مؤقف واضح کیا، تاہم اس کے باوجود مذکورہ شخص کی جانب سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پارٹی قیادت کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن مہم اور کارکنان کو اکسانے کا سلسلہ جاری رہا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کارروائی تنظیمی اصولوں اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے باعث کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شوکت یوسفزئی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے نئے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مقرر، نوٹیفکیشن جاری
شکیل بشیر خان عمرزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا بنیادی اور غیر متزلزل حصہ ہے، اور اس حساس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا پارٹی کے اندر انتشار پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مرکزی صدر ایمل ولی خان کو تحقیق کے بعد اس معاملے سے آگاہ کیا گیا، متعلقہ شخص کو فوری طور پر ڈیجیٹل ٹیم سے الگ کر دیا گیا تھا، لہٰذا اس معاملے کو بنیاد بنا کر پارٹی قیادت کے خلاف منفی مہم چلانا بدنیتی پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک منظم اور نظریاتی سیاسی جماعت ہے، جہاں تنظیمی ڈسپلن اور قواعد کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پارٹی قیادت کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف آئین اور تنظیمی ضوابط کے مطابق سخت کارروائی جاری رہے گی۔





