مشیرِ زراعت میاں محمد عمر کی زیرِ صدارت محکمہ زراعت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں زرعی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد تاریخی منصوبوں کی تجاویز دی گئیں۔
اجلاس میں زرعی گریجویٹس کو بلا سود قرضے، تعلیمی وظائف اور باقاعدہ انٹرن شپ پروگرام متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں طے پایا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 16 جبکہ اے آئی پی کے تحت 7 اہم منصوبے ضم شدہ اضلاع میں شروع کیے جائیں گے سکیں۔ اس کے ساتھ ہی صوبے میں زرعی پیداوار کو بڑھانے اور کسانوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے سولرائزڈ ٹیوب ویلز کی تنصیب اور زیرِ زمین پانی کے مؤثر انتظام کے منصوبے بھی اس پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔
زراعت کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے کے لیے لوئر دیر میں ایک پہاڑی زرعی تحقیقاتی مرکز قائم کرنے اور باغبانی کی فصلوں کو فروغ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اجلاس میں صوبے بھر میں غیر محفوظ زرعی اراضی کو کٹاؤ اور نقصانات سے بچانے کے لیے 1,150 لینڈ اسٹیبلائزیشن اسٹرکچرز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔





