محکمہ موسمیات نے جون سمیت آئندہ تین ماہ کے موسمی رجحانات کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت کا الرٹ جاری کر دیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جو زرعی شعبے اور عام زندگی کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بن سکتا ہے۔
اس موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال کا دوبارہ فعال ہونا بتایا گیا ہے جس کے باعث بارشوں کی جغرافیائی تقسیم غیر متوازن رہے گی۔
ماہانہ رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں اوسط بارش معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی جبکہ اوسط درجہ حرارت معمول سے 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں معمول سے 19 فیصد اور گلگت بلتستان میں 33 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں، تاہم سندھ میں بارشیں معمول سے 91 فیصد اور بلوچستان میں 71 فیصد کم رہیں جس سے ان علاقوں میں خشکی اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔
جون کے مہینے کے لیے جاری پیش گوئی کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں بارشیں معمول کے برابر یا اس سے کم رہیں گی، جہاں بارشوں میں سب سے زیادہ کمی شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے ملحقہ علاقوں میں متوقع ہے جبکہ گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں طوفانی ہواؤں نے تباہی مچادی، 15 سے زائد افراد زخمی،ریسکیو آپریشن جاری
جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا جس کے نتیجے میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں شدید ہیٹ ویوز کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے جون سے اگست تک کے طویل المدتی تناظر میں بتایا ہے کہ پنجاب، سندھ، زیریں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں معمول سے کم بارشیں ہوں گی جبکہ شمال مشرقی پنجاب میں یہ کمی سب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس شمالی علاقوں، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بارشیں معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مارچ تا مئی کے عرصے میں مجموعی طور پر معمول سے 26 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی تھیں مگر اب آنے والے مہینوں میں صورتحال بالکل مختلف ہوگی۔
اس صورتحال کے ملکی معیشت اور انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ بارشوں کی کمی سے خریف کی فصلوں کی بوائی اور ابتدائی نشوونما شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور آبپاشی کے لیے پانی کی طلب بڑھ جائے گی۔
دوسری جانب شمالی علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھلنے کی رفتار تیز ہوگی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے باعث اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات پیدا ہوں گے۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور نمی کے باعث ڈینگی جیسے امراض پھیل سکتے ہیں جبکہ گرد آلود آندھیاں اور ژالہ باری فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔





