پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے سوشل میڈیا پر کلب کے منتخب عہدیداروں اور سینئر صحافیوں کو خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے رقوم کی ادائیگی کی جعلی، جھوٹی اور ہتک آمیز پوسٹوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافی برادری، پشاور پریس کلب اور آزاد صحافت کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔
پشاور پریس کلب سے جاری بیان میں واضح کیا گیاہے کہ پشاور کے صحافیوں کے خلاف لگائے گئے الزامات سراسر بے بنیاد، من گھڑت، جھوٹ اور بہتان پر مبنی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذکورہ پراپیگنڈا نہ صرف صحافیوں کی ساکھ کو مجروح کرنے کی گھٹیا کوشش ہے بلکہ آزاد میڈیا کے بارے میں بداعتمادی پیدا کرنا اور صحافت کو دباؤ میں لانا ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی سمیت دیگر عہدیداروں نے بھی اس ہراسانی اور جھوٹے پروپیگنڈے کی مہمات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے بعض عناصر پشاور کے صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات، غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور آزادیٔ اظہار سے خائف ہو کر ایک منظم انداز میں سوشل میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں۔ یہ عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہوئے صحافیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے، انہیں بدنام کرنے اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قانوناً بھی قابلِ گرفت عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کی کرپشن بے نقاب کرنے والے صحافیوں کو دھمکیاں دینا بزدلی ہے، میڈیا کسی کی بدمعاشی نہیں مانے گا،ارباب خضر حیات
پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس نے واضح کیا ہے کہ پشاور پریس کلب کے کسی عہدیدار، رکن یا صحافی کو کسی بھی سرکاری محکمے، سیاسی شخصیت یا فرد کی جانب سے کوئی رقوم، مراعات یا مبینہ پیکج موصول نہیں ہوا جس کا دعویٰ مذکورہ جھوٹی پوسٹ اور جعلی دستاویز میں کیا گیا ہے۔
تنظیموں نے عزم کا اعادہ کیا کہ صحافیوں کی عزت، وقار، ساکھ اور آزادیٔ صحافت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صحافی برادری کو بدنام کرنے، انہیں تقسیم کرنے یا ان کی کردار کشی کی ہر کوشش کا بھرپور قانونی، اخلاقی اور جمہوری انداز میں مقابلہ کیا جائے گا اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پشاور پریس کلب نے واضح کیا ہے کہ اس بے ہودہ اور شرانگیز اقدام کے خلاف نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں باقاعدہ کیس دائر کیا جائے گا۔
دوسری جانب خیبر یونین آف جرنلسٹس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اس کے سائبر کرائم ونگ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف آن لائن ہتک آمیز مہمات، جعلی مواد کی تشہیر، دھمکی آمیز پیغامات اور کردار کشی میں ملوث افراد کی فوری نشاندہی کی جائے۔
صحافتی حلقوں نے متعلقہ ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس منظم مہم میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف سائبر کرائم، ہتکِ عزت اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔





