شاہد جان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض اراکینِ خیبر پختونخوا اسمبلی کا دوسرا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، پارٹی کے اندرونی معاملات اور “عمران خان رہائی تحریک” سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ناراض ایم پی ایز سے متعلق دیے گئے حالیہ بیان پر شدید ناراضی اور غصے کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے خلاف اپنے تحفظات برقرار رکھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو لکھے گئے خط کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ناراض اراکینِ اسمبلی نے منگل کے روز اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاج کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اراکین کا کہنا تھا کہ کل بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات نہیں کروائی گئی، جو بنیادی انسانی حقوق، قانون اور آئین کے سراسر منافی ہے اور وہ اس اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اراکینِ اسمبلی نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کی رہائی اور ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کے سامنے کیا جانے والا موجودہ احتجاجی عمل غیر منظم دکھائی دیتا ہے اور اس سے غیر سنجیدگی کی عکاسی ہوتی ہے جو کہ مقاصد کے حصول کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے پہلے مشاورتی اجلاس کے تحفظات کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک ایک جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جاتی، موجودہ مرکزی حکومت نہ تو عمران خان کی فیملی، وکلا اور پارٹی قائدین سے ملاقات کروائے گی اور نہ ہی ان کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ کل بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت تمام پارلیمنٹیرینز اور بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ پورا دن سخت دھوپ میں انتظار کرتے رہے مگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے ناراض اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی کا بڑا فیصلہ
ناراض اراکین نے پارٹی قیادت سے التماس اور پرزور مطالبہ کیا کہ وہ آگے آئیں اور عمران خان، دیگر اسیران اور کارکنان کی رہائی سمیت صوبے میں گڈ گورننس کے لیے ٹھوس اقدامات اور سخت فیصلے کریں۔
اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ناراض اراکینِ اسمبلی نے علیمہ خانم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بجٹ کی منظوری کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے والے بیان کی مکمل تائید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2 جون 2026 کو سامنے آنے والا یہ مؤقف خوش آئند ہے اور پی ٹی آئی کے ہر کارکن کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے۔
اراکینِ اسمبلی نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ جب تک قائد عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات نہیں کروائی جاتی، اس وقت تک بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ تمام اراکین اس مؤقف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔





