اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بجٹ کی تیاری کے عمل میں اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت اتحادیوں کا کردار اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ہر سال بجٹ کے موقع پر اپنا متبادل بجٹ پیش کرتی ہے اور اس مرتبہ بھی جماعت کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ قابلِ عمل تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کے تعین سے قبل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جاتی ہے اور اس بار بھی یہ عمل مکمل کیا گیا۔

ابتدا میں توقع تھی کہ مشاورت کا مرحلہ 5 جون تک مکمل ہو جائے گا، تاہم بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق 30 جون سے قبل بجٹ کی منظوری ضروری ہے، بصورت دیگر قومی خزانے سے اخراجات کی ادائیگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

صوبوں کے مالی حقوق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وفاق کے پاس کسی بھی صوبے کے فنڈز روکنے کا اختیار نہیں اور تمام معاملات آئینی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آئندہ تین ماہ تک موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات کی حیران کن پیشگوئی جاری

خیبرپختونخوا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق صوبے کے حصے کی ادائیگی کی جا چکی ہے اور کسی صوبے کے حقوق متاثر نہیں کیے جا رہے۔

جموں و کشمیر سے متعلق گفتگو میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکات زیر غور آئے ہیں، جبکہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ صرف 12 افراد اس اہم معاملے پر فیصلہ نہیں کر سکتے، اسی لیے ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ آئینی اہمیت رکھتا ہے اور اس کا براہِ راست تعلق کشمیر کاز سے ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ ان کی جماعت کے تحفظات صرف بجٹ تک محدود نہیں بلکہ کئی روز سے مختلف معاملات پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی مختلف امور زیر بحث ہیں اور پیپلزپارٹی صوبوں کے اختیارات میں کسی قسم کی کمی ہرگز قبول نہیں کرے گی۔

نفیسہ شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلزپارٹی صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت وصول کرتی ہے اور اس معاملے پر بھی غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔

Scroll to Top