پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ پارٹی میں کسی قسم کی کشیدگی نہیں، جبکہ چند ارکان سے رابطہ منقطع ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی اس وقت کمفرٹ زون میں ہیں اور پارٹی میں صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے ایم پی ایز سے دوبارہ رابطے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق جو کوئی سیاست سے الگ ہونا چاہتا ہے وہ ڈی ٹریک ہو جاتا ہے، تاہم سہیل آفریدی نے کسی سے کوئی کمٹمنٹ نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں : تھائی لینڈ کی معروف موٹرسائیکل کمپنی GPX کا پاکستان میں داخل ہونے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کابینہ میں کوئی غیر منتخب نمائندہ شامل نہیں، جبکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 75 ارکان موجود تھے اور 17 ارکان غیر حاضر رہے۔
شفیع جان کے مطابق غیر حاضر 17 ارکان میں سے 5 بیرون ملک، 3 حج پر اور 2 جنوبی افریقہ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار اتنے خوشگوار انداز میں پارلیمانی پارٹی اجلاس دیکھا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو کوئی بھی ہٹا نہیں سکتا اور کہا کہ 28 ارکان کے حلف ناموں سے متعلق باتیں درست نہیں، اگر ایسا ہے تو کوئی ایک دستاویز سامنے لائی جائے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سینیٹ الیکشن، علی امین کے انتخاب اور سہیل آفریدی کے معاملے کے دوران کوئی ایم پی اے نہیں ہلا، اور جو بھی بانی پی ٹی آئی کے ٹریک سے ہٹے گا وہ اپنی سیاست ختم کر لے گا۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ بعض بڑے نام بانی پی ٹی آئی سے الگ ہونے کے بعد سیاست سے غائب ہو گئے، جبکہ جو لوگ ان کے ساتھ کھڑے رہے وہ آج بھی سیاسی منظرنامے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیر افضل مروت اگر پی ٹی آئی میں نہ ہوتے تو ایم این اے نہ بن سکتے تھے، اور وہ اب بھی بانی پی ٹی آئی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ اجلاس میں 70 فیصد سے زیادہ ارکان کی شرکت متوقع ہے اور علی امین کو بھی اجلاس میں آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین عہدے سے ہٹنے کے بعد پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے، جبکہ وہ صرف ایک دھرنے میں شریک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : رات دیر تک جاگنے کی عادت کس بیماری کا سبب بنتی ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
شفیع جان نے کہا کہ ان کی جماعت کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ووٹ ملا ہے، اور گورننس کے ساتھ ساتھ ان کی رہائی بھی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت نے ہر سطح پر کوششیں کیں، اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دیا، اسلام آباد لانگ مارچ کیا، ڈی چوک اور سنگجانی میں احتجاج کیا، وزیراعظم اور چیف جسٹس سے بھی رابطے کیے، تاہم کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جب مشکل میں ہوتی ہے تو جیل کے دروازے کھولتی ہے، اور صورتحال بہتر ہونے پر خاموش ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض رہنماؤں کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بعد ’’ہائبرڈ نظام‘‘ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اس حوالے سے پٹیشن بھی جمع کرائی ہے اور وہ بجٹ سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی تو معاملہ پارٹی میں اٹھایا جائے گا۔





