ماہرین نے دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے آسان ترین ورزش بتا دی

دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بننے والے امراضِ قلب اب صرف بڑھاپے تک محدود نہیں رہے بلکہ طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے باعث نوجوانوں میں بھی ان کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

عام طور پر دل کی صحت کا حال جاننے کے لیے خون کے مختلف ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں، لیکن اب ماہرین نے ایک ایسا آسان اور مفت طریقہ دریافت کر لیا ہے جو ہر انسان خود آزما سکتا ہے۔

امریکا کے مشہور ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک وقت میں آپ کتنے پش اپس لگا سکتے ہیں، یہ تعداد آپ کے دل کی صحت کا بالکل درست حال بتا سکتی ہے۔

محققین نے دل کی شریانوں کی صحت جاننے کے لیے ایک آسان طریقہ تلاش کرنے کی خاطر 40 سال کی اوسط عمر والے 1104 فائر فائٹرز کا 10 سال تک گہرا مطالعہ کیا۔ اس دوران ان کے پش اپس لگانے کی صلاحیت اور دل کی دھڑکن کی رفتار کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران امراضِ قلب کے 37 کیسز سامنے آئے۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ پش اپس کی تعداد اور دل کی بیماریوں کے خطرے میں گہرا تعلق ہے۔ جو افراد ایک وقت میں 40 سے زیادہ پش اپس لگا لیتے ہیں، ان میں امراضِ قلب کا خطرہ 96 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح 31 سے 40 پش اپس لگانے والوں میں یہ خطرہ 75 فیصد، 21 سے 30 پش اپس لگانے والوں میں 84 فیصد، اور 11 سے 20 پش اپس لگانے والوں میں 64 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

اس کے برعکس جو افراد 10 سے کم پش اپس لگا پاتے ہیں، ان میں اگلے 10 سالوں کے دوران امراضِ قلب کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق پش اپس صرف بالائی جسم کی ورزش نہیں ہے بلکہ یہ پورے جسم کے مسلز کی طاقت اور برداشت کو جانچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ورزش جسمانی وزن کو کنٹرول کرتی ہے، بلڈ پریشر کو معمول پر لاتی ہے اور خون میں نقصان دہ کولیسٹرول، چکنائی اور شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے، جو کہ دل کو بیمار کرنے والے بنیادی اسباب ہیں۔

اگرچہ محققین نے اعتراف کیا کہ یہ تحقیق فائر فائٹرز پر کی گئی تھی جو عام لوگوں سے زیادہ فٹ ہوتے ہیں اور ایک عام انسان کے لیے ایک وقت میں 40 پش اپس لگانا مشکل ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ عام لوگ بھی اگر پش اپس کو اپنا روزمرہ کا معمول بنا لیں اور آہستہ آہستہ اس کی تعداد بڑھائیں، تو وہ اپنے دل کو خطرناک بیماریوں اور ہارٹ اٹیک سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ اہم تحقیق مشہور طبی جریدے جاما نیٹ ورک میں شائع ہوئی ہے۔

Scroll to Top