بیروت: اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے تازہ حملے کیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دریائے زہرانی کے جنوب میں رہنے والے شہریوں کو گھروں کو واپس نہ جانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
ادھر اقوام متحدہ کی امن فوج کے ایک مورچے پر مارٹر گولے گرنے سے زخمی ہونے والا اہلکار دم توڑ گیا۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی اہداف پر راکٹ حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا امریکی فوج پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے، ٹرمپ
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک لبنانی شہری شہید ہوتے رہیں گے، اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان اگلے دور کے مذاکرات 22 جون کو متوقع ہیں۔





