پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو دنیا کی کامیاب ترین سفارتی شراکت داریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان قائم لازوال دوستی، مضبوط باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون گزشتہ 75 برسوں سے ہر آزمائش پر پوری اترتی رہی ہے۔
اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق پاکستان اور چین کے تعلقات مشترکہ مفادات، باہمی احترام اور غیر متزلزل اعتماد پر استوار ہیں۔
عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک کی دوستی مزید مستحکم ہوئی ہے اور وقت کے ساتھ نئی جہتیں اختیار کرتی رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، چین نے ہر عالمی اور علاقائی فورم پر پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کی حمایت کی، جبکہ پاکستان نے بھی چین کو عالمی سطح پر ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار کے طور پر دیکھا۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق پاک چین تعلقات صرف اقتصادی مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ گہری جذباتی وابستگی، عوامی روابط اور باہمی احترام پر بھی مبنی ہیں۔
پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سفارتی بنیادیں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کی دوستی اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہوئی، جس نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک چائنہ فرینڈشپ کپ باسکٹ بال چیمپئن شپ، پاک آرمی ٹیم کی شاندار کامیابی
ماہرین کے مطابق پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے نہ صرف چین بلکہ امریکہ اور دیگر اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعلقات کو فروغ دیا ہے۔
عالمی چیلنجز اور علاقائی تبدیلیوں کے باوجود پاکستان ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک چین تعلقات کے 75 سال صرف دو ممالک کی دوستی کی کہانی نہیں بلکہ ایشیا میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کی ایک اہم مثال بھی ہیں۔
آہنی بھائی چارے پر مبنی یہ تعلقات مستقبل میں بھی دونوں ممالک کی ترقی اور خطے کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔





