ایران کے سپریم لیڈر سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا، اگر ملاقات ہوئی تو یہ میرے لیے اعزاز ہوگا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تاہم اگر کبھی ملاقات ہوئی تو یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی اور وہ مکمل احترام کے ساتھ پیش آئیں گے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ فی الحال ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے خواہاں نہیں تاہم ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت میں ایسی ملاقات ممکن ہو سکتی ہے، انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی نوعیت کیا ہوگی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ لبنان میں امن کا قیام نہایت اہم ہے اور وہاں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے حزب اللہ سے بھی گفتگو کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکی فوج پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے، ٹرمپ

روس اور یوکرین جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تنازع کے حل کے لیے مصالحت ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top