محمد اعجازآفریدی
خیبرپختونخوا حکومت قبائلی اضلاع کے اخراجات پورے کرنے کی وجہ سے شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوگئی ہے ۔
آئندہ مالی سال 2026-27 ءمیں ضم اضلاع کی مجموعی بجٹ 300 ارب روپے سے تجاوز کرجائےگی جس میں جاری اخرجات کا تخمینہ 165 ارب روپے لگایا گیاہے جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع کے لئے آئندہ مالی سال 2026-27 ءکے لئے وفاق سے 90 ارب روپے اضافی مانگ لئے ۔
اس سلسلے میں مشیرخزانہ خیبرپختونخوا نے وفاق کو باقاعدہ خط لکھ کر ارسال کردیاہے۔ خط میں خیبر پختونخوا حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے اخراجات پورے کرنے کے لیے صوبے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران انتظامی و ترقیاتی امور جاری رکھنے کے لیے وفاق سے 80 سے 90 ارب روپے تک اضافی مالی مدد درکار ہوگی۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 ءکے بجٹ میں ضم اضلاع کے لئے ترقیاتی پروگرام کی مد میں 139 ارب60 کروڑ روپے مختص کئے تھے تاہم رواں مالی سال کے اختتام پر قبائلی اضلاع میں ترقیاتی پراجیکٹس پر صرف اور صرف 34 ارب 54 کروڑ روپے خرچ کئے جو ضم اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے 24.4 فیصد بنتاہے جبکہ محکمہ خزانہ نے ضم اضلاع کے لئے مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کی مد میں 51 ارب 62 کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔
اس طرح مشیر خزانہ مزمل اسلم کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے جاری اخراجات کے لیے وفاق نے تقریباً 80 ارب روپے فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ مزید 10 ارب روپے بچت کی مد میں جاری کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ مالی خلا بدستور موجود رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کا مالی سال 2026-27 کے لیے 310 ارب کا ترقیاتی بجٹ، تفصیلات سامنے آگئیں
خط کے مطابق سال 2025-26 میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اے آئی پی کے لئے مختص 37 ارب روپے میں سے صرف 22 ارب روپے جاری کیے گئے جس سے تقریباً 15 ارب روپے کی کمی پیدا ہوئی۔
صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ فنڈز کی تاخیر سے فراہمی کے باعث اسے بیشتر عرصہ اپنے محدود وسائل سے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران ضم شدہ اضلاع کے صرف جاری اخراجات کا تخمینہ 165 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس صورتحال میں صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ تک اسے 80 سے 90 ارب روپے کی اضافی مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ سرکاری امور اور عوامی خدمات کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔





