اداکارہ مومنہ اقبال کیس میں نیا موڑ، ثاقب چدھڑ کا بیان سامنے آ گیا

اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں نامزد مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کا این سی سی آئی اے میں جمع کرایا گیا بیان منظرِ عام پر آگیا ہے جس میں انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے متعدد اہم دعوے کیے ہیں۔

اپنے بیان میں ثاقب چدھڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مومنہ اقبال سے 2020 میں ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک متعدد سفر کیے جن کے تمام اخراجات انہوں نے خود برداشت کیے۔

ثاقب چدھڑ کے مطابق مومنہ اقبال اور ان کے اہلخانہ نے اپنی سابقہ شادی اور طلاق کی معلومات ان سے مخفی رکھیں جس کا علم ہونے پر انہوں نے شادی کا ارادہ ترک کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگست 2025 میں انہوں نے مومنہ اقبال سے تعلقات ختم کر لیے تھے۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے بلیک میلنگ کے ذریعے ان سے 10 ہزار آسٹریلین ڈالر وصول کیے جبکہ ان کی یونیورسٹی فیس کی مد میں بھی 13 ہزار آسٹریلین ڈالر ادا کیے گئے، ثاقب چدھڑ کے مطابق مختلف اوقات میں مومنہ اقبال کے اکاؤنٹ میں 83 لاکھ روپے بھی منتقل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ مومنہ اقبال اور لیگی ایم پی اے تنازع، اہم پیشرفت سامنے آگئی

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مشکوک افراد نے ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں دیں جس پر انہوں نے مومنہ اقبال اور ان کی بہن کو ایسا مواد شیئر کرنے سے منع کیا۔

ثاقب چدھڑ کا کہنا تھا کہ مومنہ اقبال کو ان کے شادی شدہ ہونے کا مکمل علم تھا اور اس حوالے سے کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی موجود ہے۔

رکن اسمبلی نے مزید مؤقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے اور پولیس کو دی گئی درخواست میں تضادات اور غلط بیانی پائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، جس کے حوالے سے چنیوٹ میں مقدمہ بھی درج ہے، انہوں نے مومنہ اقبال کی درخواست کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔

دوسری جانب سیشن کورٹ لاہور نے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت منظور کرنے کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔

Scroll to Top