گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے، اور ابتدائی غیر حتمی رجحانات کے ساتھ ہی سیاسی مبصرین نے گہرائی سے اس انتخابی لہر کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیا ہے۔
سینیئر تجزیہ کاروں اور سیاسی پنڈتوں کے مطابق وفاق میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی حالیہ کارکردگی، معاشی استحکام اور خطے کے لیے کیے گئے ترقیاتی اقدامات اس الیکشن میں ن لیگ کی متوقع کامیابی کی سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے عوام عام طور پر اسی جماعت کو مینڈیٹ دیتے ہیں جو وفاق میں برسرِاقتدار ہوتی ہے تاکہ خطے کے ترقیاتی فنڈز اور گرانٹس میں رکاوٹ نہ آئے۔ تاہم، اس بار تجزیہ کاروں کے مطابق صرف روایتی رجحان ہی نہیں بلکہ وفاق میں وزیراعظم شہباز شریف کی اقتصادی پالیسیوں، مہنگائی میں کمی اور گلگت بلتستان کے بنیادی ڈھانچے خصوصاً سیاحت اور توانائی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ نے عوام کے فیصلے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسی کارکردگی کی بنیاد پر تجزیہ کار یہ تخمینہ لگا رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن 13 کے قریب نشستیں لے کر باآسانی حکومت سازی کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے زمینی کارکردگی کے بجائے صرف سوشل میڈیا اور بیانیے کی سیاست پر انحصار کیا، جسے وفاقی حکومت کی عملی کارکردگی کے سامنے عوام نے یکسر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے اگرچہ اپنے گڑھ میں مزاحمت دکھائی ہے، لیکن تجزیوں کے مطابق وہ وفاق کی ترقیاتی لہر کے آگے صرف 4 نشستوں تک محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہےجبکہ مقامی اثر و رسوخ کی حامل آزاد شخصیات بھی3 کے قریب سیٹیں حاصل کر سکتی ہیں۔
مبصرین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ایک ایسا حلقہ جہاں سب سے سخت اور ٹف مقابلہ متوقع تھا، وہاں بھی وفاقی حکومت کی کارکردگی اور مستقبل میں گلگت بلتستان کو ملنے والے ممکنہ پیکیجز کا اثر دیکھا گیا، جس کی وجہ سے وہاں بھی اپوزیشن امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگرچہ گنتی کا عمل ابھی جاری ہے اور حتمی نتائج الیکشن کمیشن ہی جاری کرے گا لیکن تجزیہ کاروں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ متوقع نتائج وفاق کی کارکردگی پر عوام کی مہرِ تصدیق ہیں۔





