ویانا: اوپیک پلس نے جولائی 2026 کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کے کوٹے کی منظوری دے دی ہے۔
اوپیک پلس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان کے وزرائے توانائی کی آن لائن مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافے کا مقصد عالمی تیل منڈی میں استحکام کو برقرار رکھنا اور رکن ممالک کو سابقہ رضاکارانہ کٹوتیوں کی تلافی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور توانائی کی طلب کے تناظر میں یہ اقدام مارکیٹ کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اوپیک پلس کا مؤقف ہے کہ پیداوار بڑھانے سے سپلائی کے حوالے سے خدشات میں کمی آئے گی اور منڈی میں اعتماد بحال ہوگا۔
دوسری جانب توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی کو درپیش دباؤ فوری طور پر کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے سپلائی چین کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان انتخابات، 19 نشستوں کے مکمل نتائج موصول، کئی مضبوط امیدوار ہار گئے
ماہرین کے مطابق اگرچہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافے کا اعلان اہم پیش رفت ہے، تاہم جب تک آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل معمول پر نہیں آتی، اس فیصلے کے عملی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کو صرف اضافی کوٹوں کی نہیں بلکہ حقیقی سپلائی کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں اور رسد کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی ترسیل کی بحالی عالمی توانائی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گی، جبکہ اوپیک پلس کے حالیہ فیصلے کے اثرات بھی اسی تناظر میں سامنے آئیں گے۔





