صوبائی دارالحکومت پشاور میں بچوں اور بچیوں کی پراسرار گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں، خصوصاً والدین میں شدید خوف اور بےچینی پیدا کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر میں جہاں اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کے واقعات پہلے ہی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں، وہیں حالیہ دنوں میں بچوں کی گمشدگی کے مسلسل سامنے آنے والے کیسز نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً روزانہ کسی نہ کسی بچے یا بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع سامنے آ رہی ہے، تاہم بیشتر کیسز میں تاحال کوئی واضح پیش رفت یا سراغ نہیں مل سکا۔ اس صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لیے پولیس تھانوں اور متعلقہ دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن انہیں صرف تسلیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ کئی خاندانوں کے مطابق ان کی زندگیاں مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ مائیں اپنے بچوں کی واپسی کی امید میں راتیں جاگ کر گزار رہی ہیں۔
شہری حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر معصوم بچے کہاں جا رہے ہیں اور کیا یہ واقعات محض اتفاق ہیں یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک سرگرم ہے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور دیگر وسائل کے باوجود ان کیسز میں پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی۔
شہریوں نے حکومت خیبر پختونخوا اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی گمشدگی کے تمام کیسز کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں، خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔





