حکومت نے نئے مالی سال سے قبل سرمایہ کاروں اور بچت کنندگان کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے مختلف قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحوں کا اطلاق آج 10 جون 2026 سے ہوگا جس کے تحت متعدد بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ منافع حاصل ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ اور اسپیشل سیونگ اکاؤنٹ کی سالانہ شرح منافع 12.4 فیصد سے بڑھا کر 13.6 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
نئی شرح کے تحت ایک لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹ پر پہلی ششماہی کے دوران 6 ہزار 200 روپے جبکہ دوسری ششماہی میں 6 ہزار 800 روپے منافع دیا جائے گا۔
حکومتی فیصلے سے ان افراد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا جو قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کو محفوظ اور منافع بخش ذریعہ سمجھتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فائلرز پر منافع کی آمدن پر 15 فیصد جبکہ نان فائلرز پر 30 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اسی طرح ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کی منافع بخش ساخت کو بھی برقرار رکھا گیا ہے جس میں پہلے سال 10 فیصد منافع دیا جائے گا اور یہ شرح مدت مکمل ہونے تک بتدریج بڑھتے ہوئے 67 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اگلے سال حج کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑی خبر
حکومت نے ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع کی شرح 12.24 فیصد مقرر کی ہے جبکہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر 13.20 فیصد منافع دیا جائے گا۔
شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ کے لیے تین ماہ کی مدت پر 11.4 فیصد، چھ ماہ پر 11.66 فیصد اور ایک سال کی سرمایہ کاری پر 11.77 فیصد منافع مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 10 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹ اور اسلامک سیونگ اکاؤنٹس کی شرح منافع میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شرح منافع میں یہ اضافہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید فروغ دے سکتا ہے اور عام شہریوں کو محفوظ سرمایہ کاری کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔





