تہران : امریکی فوج کے اپاچی ہیلی کاپٹر سے متعلق تنازع پر ایران نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے اس واقعے میں کسی بھی قسم کے دانستہ کردار کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران کا امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ایران کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی جان بوجھ کر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری غیرمعمولی کشیدگی کے باعث بعض اوقات غیرارادی واقعات پیش آ سکتے ہیں، جنہیں فوری طور پر حملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی حکام بھی واقعے کی نوعیت کے حوالے سے حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلی کاپٹر ممکنہ طور پر ایک ایرانی ڈرون سے ٹکرا گیا تھا، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ کارروائی دانستہ طور پر کی گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا محفوظ رہنا چاہتا ہے تو خطے سے نکل جائے، عباس عراقچی
ادھر ایرانی عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کسی قسم کی فضائی کارروائی انجام نہیں دی گئی۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایران نے مار گرایا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اگرچہ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں پائلٹ محفوظ رہے، تاہم واشنگٹن اس واقعے کو نظرانداز نہیں کرے گا اور اس کا جواب دیا جائے گا۔
امریکی اور ایرانی مؤقف میں واضح تضاد کے باعث اس واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے جاری تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔





