عمران خان رہائی تحریک کا مشاورتی اجلاس، اڈیالہ احتجاج، ملاقات اور بجٹ پر اہم فیصلے

شاہد جان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف عمران خان رہائی تحریک اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، پارٹی امور اور صوبائی بجٹ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

مشاورتی کمیٹی نے گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر علیمہ خان سے منسوب پیغامات گردش کر رہے تھے جن میں منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار کارکنوں، پارلیمنٹیرینز اور تنظیمی عہدیداران کی شرکت کا ذکر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : عوام کیلئے بڑی خوشخبری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بڑا فیصلہ

اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے کہا کہ اس کال کو مرکزی تنظیم، صوبائی تنظیم، خیبرپختونخوا حکومت، وزیراعلیٰ یا متعلقہ تنظیمی ذمہ داران کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا، نہ ہی اس کی تشہیر، منصوبہ بندی یا کارکنوں کو ہدایات فراہم کی گئیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ماضی میں جب بھی سیاسی یا مزاحمتی سرگرمیاں باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے، مشاورت اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے تحت کی گئیں تو ان کے نتائج بہتر سامنے آئے، تاہم اس معاملے میں مؤثر انتظامی حکمت عملی نظر نہیں آئی۔

مشاورتی کمیٹی نے قرار دیا کہ اگر کسی عوامی احتجاج یا سیاسی سرگرمی کا اعلان کیا جائے تو اسے مکمل تیاری، ذمہ داریوں کے تعین اور واضح ہدایات کے ساتھ منظم کیا جانا چاہیے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ بعد ازاں قومی اسمبلی کے نامزد پارلیمانی لیڈر کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا کہ اس معاملے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو دی گئی تھی، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی واضح عوامی سرگرمی یا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب علیمہ خان کی جانب سے بھی اس کال کی نفی کی گئی، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر محدود تعداد میں افراد کی موجودگی سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پارٹی قیادت کی دلچسپی مؤثر انداز میں ظاہر نہیں ہو سکی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے پر آئندہ چند روز میں مرکزی قیادت سے باضابطہ رابطہ کیا جائے گا۔

مشاورتی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، عمران خان رہائی تحریک اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ڈرائیونگ لائسنس کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی سہولت متعارف، اہم اعلان

اعلامیے کے مطابق اس مقصد کے لیے دو وکلا کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں اور درخواست آئندہ چند روز میں ہنگامی بنیادوں پر دائر کی جائے گی تاکہ منتخب نمائندوں کی اپنے قائد سے ملاقات ممکن بنائی جا سکے۔

کمیٹی کے مطابق ملاقات میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر قید رہنماؤں کی رہائی، جاری تحریک، پارٹی امور، خیبرپختونخوا حکومت کی گڈ گورننس اور آئندہ بجٹ سمیت اہم معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق 12 جون کو نگران چیئرمین بیرسٹر گوہر سے دو رکنی وفد کی ملاقات بھی ہوئی تھی، جس میں پہلے سے جاری نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

کمیٹی نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر نے پیش کیے گئے نکات کو سراہا اور مزید مشاورت و تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں : مسلسل پانچویں بار التوا: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ ایک دفعہ پھر تبدیل

مشاورتی کمیٹی نے مرکزی قیادت سے رابطے کے لیے چند نام تجویز کیے جن میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، شیخ وقاص،عامر ڈوگر، جنید اکبرشامل ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پارلیمنٹیرینز کی جانب سے جن شخصیات کے نام تجویز کیے جائیں گے، انہی سے آئندہ ملاقاتیں کر کے عمران خان کی رہائی، پارٹی معاملات اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مشاورتی کمیٹی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور تمام پارلیمنٹیرینز عمران خان کے اعتماد اور نامزدگی کے تحت عوامی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق آئندہ صوبائی بجٹ کو باریک بینی سے جانچا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ بجٹ میں عمران خان کے وژن کو اجاگر کیا جائے، جبکہ علاقائی بنیادوں پر منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنایا جائے۔

کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان کے وژن کو عوامی مفاد میں عملی شکل دینے کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کیا جائے گا۔

Scroll to Top