واشنگٹن: امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکی سفارتکار نے بتایا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں لبنان میں کشیدگی کم رکھنے کے طریقہ کار، جنگ بندی کو مؤثر بنانے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے سمیت اہم امور پر بات چیت ہوئی۔
امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا ماحول مثبت رہا اور دونوں جانب سے بات چیت کو آگے بڑھانے پر آمادگی دکھائی گئی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر اچھی پیش رفت ہوئی جبکہ تمام فریق مذاکرات کے نتائج سے مطمئن نظر آئے۔
امریکی حکام کے مطابق امریکا نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا دیکھنا چاہتا ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
سفارتکار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران سیاسی قیادت اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان آئندہ رابطوں کے فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا، تاکہ معاملات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق چاروں فریق آج ہونے والی پیش رفت پر مطمئن دکھائی دیے اور مذاکراتی عمل کو مثبت سمت میں اہم قدم قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز ایرانی اور امریکی وفود پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونے والے 4 فریقی مذاکرات میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : سوئٹزرلینڈ میں 4 فریقی مذاکرات مکمل، ایرانی وفد واپس روانہ، سرکاری میڈیا
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیراعظم کا خیر مقدم کیا۔ اس ملاقات کے مناظر کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کو عالمی امن اور خوشحالی کے لیے ایک اہم دن قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بات چیت مثبت نتائج سامنے لائے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام امریکا کی ترجیح ہے اور امریکا ایران کے ساتھ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب قطر کے وزیراعظم نے مذاکرات کو خطے اور عالمی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم اور تاریخی قرار دیا۔





