عمران خان اور بیرسٹر سیف کی ملاقات سے متعلق میڈیا رپورٹس من گھڑت نکلیں

نجی میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں سراسر بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف کے درمیان اڈیالہ جیل میں ملاقات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ چلائی تھی کہ جیل حکام اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کو باقاعدہ مطلع کیا گیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی، بیرسٹر سیف سے ملنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ گزشتہ ماہ فیملی سے ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا مگر ملاقات ہو نہ سکی۔

تاہم، زمینی حقائق اور باوثوق ذرائع کی پڑتال سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ان خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمران خان اور بیرسٹر سیف کے درمیان نہ تو ایسی کوئی ملاقات طے ہے اور نہ ہی اس حوالے سے جیل حکام کو کوئی درخواست دی گئی ہے۔

جہاں تک عمران خان کی دیگر ملاقاتوں کا تعلق ہےجیل ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے جیل کے کانفرنس روم میں ملاقات ضرور ہوئی ہے جو تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو بجٹ کا بائیکاٹ کریں گے: بیرسٹر گوہر

دوسری جانب، ملاقات کے لیے آنے والے وکلاء اور فیملی ممبران کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، شفیع جان اور میاں خان آفریدی کے ہمراہ فیکٹری ناکا پوائنٹ پر موجود رہے جبکہ عمران خان کی تینوں ہمشیرہ بھی کارکنوں کی بڑی تعداد کے ساتھ وہیں موجود رہیں جس کی وجہ سے جیل کے باہر صورتحال کافی کشیدہ رہی۔

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں رات گئے سخت سکیورٹی میں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ماہر ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں انٹراوٹریل انجکشن کی پانچویں خوراک دی۔ طبی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جس کی تصدیق بعد میں بیرسٹر گوہر نے بھی کی۔

Scroll to Top