برطانیہ میں کی گئی ایک نئی اور جامع تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کا اسکرین ٹائم ان کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشوونما پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، اس لیے اس سے مکمل اجتناب کیا جانا چاہیے۔
تحقیق کے مطابق اس عمر میں موبائل فون، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال بچوں میں حد سے زیادہ ذہنی تحریک نیند کی خرابی، آنکھوں کی صحت پر اثرات اور بچپن میں موٹاپے جیسے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسکرین ٹائم اور مخصوص ترقیاتی مسائل کے درمیان براہِ راست تعلق حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا، تاہم ابتدائی نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کم عمر بچوں کے لیے اسکرین کا استعمال ممکنہ طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ موجودہ پالیسیوں میں بڑے بچوں کے اسکرین استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے، تاہم دو سال سے کم عمر بچوں کے حوالے سے ایک واضح پالیسی خلا موجود ہے۔
تحقیق کے مرکزی محقق کے مطابق والدین کو مناسب رہنمائی نہ ملنے کے باعث وہ نادانستہ طور پر بچوں کو اسکرین ڈیوائسز کا عادی بنا رہے ہیں جو بعد میں غیر صحت مند عادات اور رویوں کا سبب بن سکتا ہے۔
مطالعے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس عمر میں اسکرین ٹائم بچوں اور والدین کے درمیان جذباتی تعلق کو کمزور کر سکتا ہے، جسمانی سرگرمی کے مواقع محدود کر دیتا ہے اور زبان سیکھنے کی صلاحیت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لمبی اور صحت مند زندگی کیلئے ہر ہفتے کتنے گھنٹے ورزش ضروری ہیں؟
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے باقاعدہ اسکرین ٹائم سے مکمل اجتناب ضروری ہے، کیونکہ اس کے کوئی واضح فوائد سامنے نہیں آئے۔
تحقیق میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ حکومتی رہنما اصولوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ والدین اس حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہ کریں۔
ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے اس تحقیق کو ایک ویک اپ کال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی 1001 دن انسانی زندگی میں انتہائی اہم ہوتے ہیں اور اس دوران احتیاط ناگزیر ہے





