سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے معمول کا حصہ ہیں اور اس سلسلے میں بلاول بھٹو کی آمد ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے باآسانی حل ہو سکتا ہے کیونکہ ڈنڈے یا بندوق سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ معاملات کو سیاسی انداز میں طے کیا جانا چاہیے،احتجاج کرنے والوں کا چارٹر آف ڈیمانڈ کوئی ایسا مشکل کام نہیں جس پر بات چیت نہ ہو سکے۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور سیاسی امور میں مولانا فضل الرحمان سے تعاون لیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور ان کی یہ دلی خواہش ہے کہ آزاد کشمیر کے مسائل کا کوئی پائیدار اور مستقل حل نکالا جائے۔
بلاول بھٹو نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش سے بھرپور فائدہ اٹھائے کیونکہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی دونوں ہی عوامی تحریکیں چلانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاست سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور: اکیڈمی کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے
اس ملاقات کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وفد میں انجینئر ضیاء الرحمان اور مولانا اسجد محمود نے شرکت کی۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔





