بلوچستان میں طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کے نام پر چلائے جانے والے مبینہ انسانی بحران کے پیچھے چھپے اصل کردار، کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور بیرونی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کا سنسنی خیز پردہ فاش ہو گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور حالیہ عدالتی فیصلوں سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جن افراد کو مظاہروں اور لانگ مارچز میں ’مظلوم لاپتہ شہری‘ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، وہ دراصل کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے انتہائی خطرناک خودکش اسکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کے سرگرم دہشت گرد اور کمانڈرز نکلے۔
حالیہ دنوں میں جیوانی میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کا مبینہ سرغنہ عطااللہ ولد گاجی خان، جو ضلع آواران کا رہائشی ہے، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کالعدم بی ایل اے کا سرگرم کمانڈر ثابت ہوا ہے۔
حیرت انگیز طور پر عطااللہ کا نام ماضی میں ماہ رنگ لانگو کی جانب سے ’پیس، جسٹس اینڈ ایکول رائٹس‘ (پاانک) نامی تنظیم کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
ماہ رنگ لانگو نے متعدد احتجاجی مظاہروں میں اس کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اس کی دہشتگردانہ کارروائیوں نے اس جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو ان کی وحشیانہ کارروائیوں، سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے۔
امریکا نے سال 2025 میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باضابطہ طور پر ’فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ یہ تنظیمیں بھارتی پراکسیز کے طور پر کام کر رہی ہیں، جنہیں افغانستان میں قائم نیٹ ورکس کے ذریعے فنڈنگ، جدید ترین ہتھیار اور تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
اس ملک دشمن نیٹ ورک کے خلاف قانونی شکنجہ سخت کرتے ہوئے، جون 2026 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما ماہ رنگ لانگو اور صبغت اللہ کو غداری، دہشت گردی اور قتل کے سنگین الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
ان رہنماؤں پر سال 2024 کے پرتشدد مظاہروں کے دوران پاک فوج کے سپاہی شبیر بلوچ کو بے دردی سے شہید کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی وائی سی کا احتجاج اور اسلام آباد تک لانگ مارچ دراصل دہشتگردوں کو تحفظ دینے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا ایک نفیس پروپیگنڈا تھا۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے ‘لاپتہ افراد’ کے کارڈ کو ہمیشہ ریاست کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
سال 2023 کے آخر اور 2024 کے دوران اسلام آباد اور کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر دھرنے دیے گئے، جن کی قیادت ماہ رنگ لانگو نے کی۔
ان مظاہروں کا بظاہر مقصد انسانی حقوق کی پامالی کو اجاگر کرنا تھا، لیکن فروری 2025 میں ‘پاانک’ جیسی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کی جب گہرائی سے جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان فہرستوں میں شامل سیکڑوں افراد یا تو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلوں میں مارے جا چکے تھے یا خودکش حملوں میں ملوث پائے گئے۔
ریاست پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف برقرار رکھا کہ کارروائیاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ان گروپوں نے خودکش دھماکوں، ٹرین ہائی جیکنگ اور گھات لگا کر حملوں کے ذریعے بلوچستان کا امن تباہ کیا۔
یہ انکشافات اس بات کی واضح تصدیق ہیں کہ بلوچستان میں جاری بدامنی محض کوئی داخلی سیاسی محرک نہیں، بلکہ ایک گہری ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ ہے۔ ‘لاپتہ افراد’ کے نام پر ہمدردیاں سمیٹنے کا ڈرامہ اب منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔
جب سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے بعد ملنے والی لاشوں کی شناخت بی ایل اے کے جنگجوؤں کے طور پر ہوتی ہے، تو بی وائی سی اور ‘پاانک’ جیسے اداروں کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔
واضح رہے کہ ماہ رنگ لانگو کو سزا ملنے اور عطااللہ جیسے کمانڈرز کے بے نقاب ہونے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انسانی حقوق کی آڑ میں دہشتگردوں کے لیے ایک سیاسی اور سماجی ڈھال تیار کی گئی تھی۔
بھارت کی جانب سے سی پیک کو روکنے کے لیے ان تنظیموں کا استعمال اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے، جیسا کہ امریکی پابندیوں سے ظاہر ہے۔
پاکستان کے عوامی اور سیکیورٹی حلقوں کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اب کسی بھی رعایت کے بغیر، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان تمام عناصر کا قلع قمع کیا جائے جو معصوم بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر کے ریاست کے خلاف کھڑا کرتے ہیں۔





