سونا سستا ہوا یا مہنگا؟انتظار ختم ،عالمی منڈی سے حیران کن اپ ڈیٹ آگئی

سونا سستا ہوا یا مہنگا؟انتظار ختم ،عالمی منڈی سے حیران کن اپ ڈیٹ آگئی

امریکی شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی، عالمی منڈی میں سونا دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہیں، جہاں امریکی معیشت سے متعلق کمزور روزگار کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کم ہونے سے سونے کی قیمتوں کو سہارا ملا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 4,174.66 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,186.70 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جو گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں لیبر مارکیٹ کی رفتار توقعات سے کمزور رہنے کے باعث سرمایہ کاروں نے یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو آئندہ اجلاسوں میں شرح سود میں اضافے کے معاملے پر زیادہ محتاط رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تازہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق جون کے دوران امریکہ میں نئی ملازمتوں کی رفتار نمایاں طور پر سست رہی، جبکہ گزشتہ دو ماہ کے روزگار کے اعداد و شمار پر بھی نظرثانی کرتے ہوئے انہیں کم کر دیا گیا۔ ان اعداد و شمار نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ امریکی معیشت میں مہنگائی کا دباؤ بتدریج کم ہو رہا ہے، جس سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جب شرح سود میں اضافے کی رفتار کم ہوتی ہے یا شرح سود میں کمی کی توقع پیدا ہوتی ہے تو سونا سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش اثاثہ بن جاتا ہے، کیونکہ اس پر سود نہیں دیا جاتا۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے 16 اور 17 جون کو ہونے والے اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہیں، جو بدھ کے روز جاری کیے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق ان دستاویزات سے امریکی مرکزی بینک کی آئندہ مالیاتی پالیسی اور شرح سود کے ممکنہ فیصلوں کے بارے میں اہم اشارے مل سکتے ہیں، جو عالمی مالیاتی منڈیوں اور سونے کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ اگرچہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے، تاہم طلب توقعات سے کم رہنے کے باعث تیسری سہ ماہی کے دوران سونے کی اوسط قیمت 4,300 ڈالر فی اونس جبکہ سال کی آخری سہ ماہی میں تقریباً 4,500 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ادھر دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں چاندی، پلاٹینم اور پیلاڈیم کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی سے متعلق اعلانات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کے رخ کا تعین کریں گے۔

Scroll to Top